ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تنویر سیٹھ نے کہا؛ اندرون ماہ وقف سروے مکمل ہوجائے گا، وقف بورڈ کے نئے قواعد وضوابط کی تیاری کا کام مکمل

تنویر سیٹھ نے کہا؛ اندرون ماہ وقف سروے مکمل ہوجائے گا، وقف بورڈ کے نئے قواعد وضوابط کی تیاری کا کام مکمل

Fri, 07 Oct 2016 00:34:17    S.O. News Service

بنگلورو۔7/اکتوبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے اوقاف، اقلیتی بہبود وبنیادی تعلیمات تنویر سیٹھ نے آج بتایاکہ وقف بورڈ کے قواعد وضوابط (رولس اینڈ ریگولیشنس) کی تیاری کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔عنقریب یہ مسودہ عوامی تجاویز اور اعتراضات کیلئے منظر عام پر لایا جائے گا۔ایک تا دو ماہ کے عرصہ میں ان ضوابط وقواعد کو نوٹی فائی کردیا جائے گا، جس کے فوراً بعد وقف بورڈ انتخابات کے انعقاد کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ آج وقف قواعد وضوابط کی تیاری کیلئے تشکیل شدہ ماہرین کمیٹی کی اہم میٹنگ میں شرکت کے بعد اردو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت وقف بورڈ انتخابات کا بروقت اہتمام کرنے کی خواہاں تھی، مگر محکمہئ قانون نے رائے دی کہ نئے قواعد وضوابط کی تیاری کے بعد انتخابات منعقد کئے جائیں، جس کی وجہ سے انتخابات میں قدرے تاخیر ہورہی ہے۔ انہو ں نے بتایاکہ اوقافی امور میں دور اندیشی کیلئے سارے ملک میں کرناٹک سر فہرست ہے۔ نئے ضوابط میں اوقاف کے ہر امر پر توجہ دی گئی ہے۔ اوقافی املاک اور مقامات کی صراحت کے ساتھ تشریح کی جارہی ہے۔خاص طور پر عاشورخانہ، خانقاہ، چلہ، مقبرہ وغیرہ کی تفصیلی نشاندہی ان ضوابط میں کی گئی ہے۔ اسی طرح ہر معاملے میں شفافیت لاتے ہوئے سب کمیٹیوں کو فعال اور طاقتور بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اوقافی سروے: تنویر سیٹھ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کا وقف سروے کافی دنوں سے التوا ء کا شکار ہے۔جس کے پیش نظر تاریخ میں پہلی بار وزیر مالگذاری کاگوڈتمپا کی صدارت میں محکمہئ مالگذاری سروے، لینڈ ریکارڈس، وقف بورڈ، محکمہء اقلیتی بہبود اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی، جس میں کاگوڈ تمپا نے فوری طور پر ثانوی وقف سروے کو مکمل کرنے کے احکامات صادر کئے، جس کے تحت یہ توقع ہے کہ دو ماہ کے اندر سروے پورا ہوجائے گا۔ اسی طرح بی بی ایم پی حدود سمیت ریاست بھر میں قبرستانوں کی منظوری کیلئے بھی درخواست دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 2013 کے وقف ایکٹ کے بعد کافی قوت ملی ہے۔ جس کے تحت 60 فیصد سروے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ 30/ اضلاع میں سے صرف دکشن کنڑا ضلع کا سروے مکمل ہوا ہے، اور کورگ کے تین، ہاسن کے دو تعلقہ جات میں بھی سروے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ 

اوقافی املاک کا تحفظ:ریاستی حکومت کے ذریعہ اوقافی املاک کے تحفظ کو ترجیح دی جارہی ہے۔درگاہ حضرت مانک شاہ وحضرت مستان شاہؒ اوینیو روڈ سے تعلق رکھنے والے بلہلی کی 602ایکڑ زمین کا تنازعہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، ایسے میں کسی بھی حال میں یہاں پر تعمیری کام نہ کرنے اور جوں کے توں حالات برقرار رکھنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کو احکامات جاری کردئے گئے ہیں۔ اسی طرح دیگر قبضہ جات سے متعلق سخت کارروائی کی جائے گی۔ بڑا مکان سے تعلق رکھنے والے سروے نمبر 18 کی ہاپ کامس زمین کے معاملے پر انہوں نے بتایاکہ وقف بورڈ نے 2012 میں ہی اس معاملے پر وصول شدہ ایک کروڑ کی رقم واپس لوٹا دی ہے۔ 
وقف ٹریبونل:انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے ہمہ رکنی وقف ٹریبونل کو منظوری دے دی ہے اور کل سے ہی اس میں حمید شاہ کامپلکس میں عارضی دفتر نے کام شروع کردیا، جس کیلئے ہائی کورٹ نے جسٹس زیب النساء کا تقرر کیا ہے۔ حکومت نے سینئر افسر و اقلیتی ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر اکرم پاشاہ کے علاوہ کرناٹک لا ء یونیورسٹی کے ذریعہ ایک رکن نامزد کیا ہے۔ ٹریبونل کیلئے مستقل دفتر کی تلاش جاری ہے، جس کیلئے کھنیجا بھون،دارالسلام اور دیگر عمارتوں کا جائزہ لیا جارہاہے، حکومت چاہتی ہے کہ دیگر تین ڈویژنوں میں بھی وقف ٹریبونل قائم کیاجائے، جس کیلئے محکمہئ مالیات کو مکتوب روانہ کردیا گیاہے۔ ٹریبونل کیلئے کلرک اور لاء افسران کے علاوہ رجسٹرار کے طور پر وقف بورڈ سے سی ای او کا تقرر کرنے پر غور کیاجارہاہے تاکہ وقف ٹریبونل اور وقف بورڈ میں تال میل بنا رہے۔ اس موقع پر محکمہئ اقلیتی بہبود کے سکریٹری محمد محسن، ریاستی وقف بورڈ کے چیف ایگزی کیٹیو آفیسر ذوالفقار اللہ،کے علاوہ ماہرین کی کمیٹی کے اراکین میں سابق افسران سید تحسین احمد، معاذ احمد شریف، مجیب اللہ ظفاری، سابق وقف بورڈ چیرمین ریاض خان، رکن کونسل عبدالجبار کے علاوہ اقلیتی ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر اکرم پاشاہ، وزیر موصوف کے او ایس ڈی صدیق پاشاہ اور دیگر موجود تھے۔


Share: